زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 949 مکانات، 7 گرجا گھر، 2 ہوٹلز اور 3 اسکولز تباہ ہوئے جبکہ دیگر 723 مکانات، ایک جیل، 3 طبی مراکز اور 7 اسکولوں کو نقصان پہنچا البتہ بندرگاہ، ایئرپورٹ اور ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر بڑے نقصان سے محفوظ رہے۔

ہیٹی کے نئے وزیر اعظم ایریئل ہنری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ خطرناک زلزلے سے ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں اور بہت زیادہ نقصان پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ متاثرین کی مدد کے لیے تمام سرکاری وسائل بروئے کار لائیں گے اور اس صورتحال کو ڈرامائی قررا دیتے ہوئے قوم سے یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
وزیر اعظم نے ملک میں ایک ماہ کی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ نقصانات کے تعین تک عالمی امداد کی اپیل نہیں کریں گے.
ان کا کہنا تھا کہ ساحلی پٹی پر واقع کچھ مقامات بالکل تباہ ہو چکے ہیں اور حکومت ان کی بحالی کے لیے منصوبہ تیار کر رہی ہے۔
قبل ازیں ہیٹی کے ڈائریکٹرآف سول پروٹیکشن جیری چینڈلر نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا تھا کہ زلزلے سے اب تک 29 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید نقصان کا پتا لگانے کے لیے امدادی ٹیمیں مختلف علاقوں میں بھیجی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں