دنیا بھر میں گزشتہ 30 برسوں کے دوران ذیابیطس کے شکار افراد کی تعداد دوگنا اضافے سے 80 کروڑ سے زائد ہوگئی ہے اور پاکستان اس مرض سے متاثر چوتھا بڑا ملک ہے۔
یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
جرنل لانسیٹ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ 1990 سے 2022 کے دوران دنیا بھر میں بالغ افراد میں ذیایبطس کی شرح 7 سے بڑھ کر 14 فیصد ہوگئی، غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
NCD-RisC کے سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ ملکر کام کیا اور مختلف ممالک میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 14 کروڑ افراد پر ہونے والی ایک ہزار تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔
انہوں نے مختلف ٹولز استعمال کرکے مختلف ممالک اور خطوں میں ذیابیطس کے پھیلاؤ اور علاج کا موازنہ کیا۔
ذیابیطس ایسا دائمی مرض ہے جس کے شکار افراد کا لبلبلہ مناسب مقدار میں انسولین تیار نہیں کرپاتا۔
ذیابیطس کو کنٹرول نہ کیا جائے تو بلڈ شوگر کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے جس سے جسم کے مختلف اعضا بالخصوص اعصاب اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
ذیابیطس ٹائپ 1 ایک آٹو امیون مرض ہے جس کے دوران جسم خود لبلبے کے ان خلیات کو تباہ کردیتا ہے جو انسولین تیار کرتے ہیں جبکہ ذیابیطس ٹائپ 2 میٹابولک عارضہ ہے جس کے دوران جسم انسولین کو درست طریقے سے استعمال نہیں کرپاتا۔
ذیابیطس کے 95 فیصد سے زائد مریضوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کی تشخیص ہوتی ہے۔
ذیابیطس ٹائپ 1 کے برعکس ٹائپ 2 کی روک تھام ممکن ہے۔
زیادہ جسمانی وزن، ناقص غذائی عادات اور جسمانی سرگرمیوں سے دوری سمیت جینیاتی عناصر سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا میں 50 فیصد سے زیادہ ذیابیطس کے مریض 4 ممالک میں سامنے آئے ہیں۔
2022 میں ایک چوتھائی سے زیادہ (21 کروڑ 20 لاکھ) مریض بھارت میں رہائش پذیر تھے، 14 کروڑ 80 لاکھ چین، 4 کروڑ 20 لاکھ امریکا اور 3 کروڑ 60 لاکھ مریضوں کا تعلق پاکستان سے تھا۔
انڈونیشیا اور برازیل میں بالترتیب ڈھائی کروڑ اور 2 کروڑ 20 لاکھ کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔
موٹاپے کی شرح اور معمر آبادی بڑھنے سے دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
محققین نے بتایا کہ معذوری اور دیگر سنگین اثرات کے باعث یہ ضروری ہے کہ صحت کے لیے مفید غذا اور ورزش کے ذریعے ذیابیطس کی روک تھام کی جائے۔